ابنا: روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے تاکید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس بات کا قطعاً کوئی امکان نہیں کہ ماسکو شام کےصدر بشاراسد کو اقتدار سے الگ ہونے کا کہے گا اور بشار اسد کو اقتدار سے الگ کرنے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، دہشت گردوں کے ذریعہ کسی ملک کے سربراہ کو اقتدار سے الگ کرنے کی مغربی اور عربی کوشش بالکل غلط اور غیر منطقی ہے۔ انھوں نے کہا کہ شام کے رہنما کا انتخاب شامی عوام کا ہمارانہیں، دہشت گردوں اور مسلح افراد کی حمایت سے شامی عوام کا رہنما مقرر نہیں کیا جاسکتا۔ لاوروف نے کہا کہ شام کے صدر بشاراسد کا کسی بھی صورت میں مستعفی ہونے کا کوئی ارادہ نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا ہم شام کو متحد اور جمہوری ملک دیکھنا چاہتے ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ شامی باشندوں کو ان کی مرضی کے مطابق اپنا نمائندہ منتخب کرنے کی آزادی حاصل ہو اور شام کا بحران شروع ہونے سے اب تک روس کی یہی پوزیشن رہی ہے۔ واضح رہے کہ شام میں امریکہ کی سرپرستی میں سعودی عرب ، قطر، ترکی اور اسرائیل دہشت گردوں کی حمایت کررہے ہیں۔
.....
/169